For the Urdu-speaking world—specifically within the Muslim majority of South Asia—the "Torah" is encountered primarily through references in the Quran and Hadith. However, Christian missionaries and Jewish scholars have also produced complete Urdu translations of the Torah (the Pentateuch or the first five books of the Hebrew Bible) for study and interfaith dialogue.
کیا آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟
قرآن مجید میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ تورات کے مطالعے سے ان تاریخی واقعات کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
تورات وہ مقدس کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی۔
Details the Israelites' departure from Egypt and the receiving of the Ten Commandments. torah holy book in urdu
یہ توریت کا سب سے مشہور حصہ ہے۔ ان میں توحید، والدین کی عزت، قتل، چوری، زنا اور جھوٹی گواہی کی ممانعت شامل ہے۔
لفظ "تورات" عبرانی زبان کے لفظ "توراہ" (Torah) سے نکلا ہے جس کے معنی "قانون"، "شریعت"، "ہدایت" یا "تعلیم" کے ہیں۔
These form the moral backbone of many societies, emphasizing monotheism, honoring parents, and prohibiting theft or murder.
یہ تورات کی آخری کتاب ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخری خطبات، قوانین کی دہرائی، اور ان کی وفات کے احوال پر مشتمل ہے۔ یہ توریت کا سب سے مشہور حصہ ہے۔
قرآن مجید میں تورات کا ذکر متعدد مقامات پر انتہائی احترام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ہے، جس میں تورات بھی شامل ہے۔ ۱. ہدایت اور نور
توریت، جیسا کہ اس کا اسلامی تصور ہے، انسانیت کے لیے رحمت اور ہدایت تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس کی اصل شکل بدل دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد زبور، انجیل اور سب سے آخر میں قرآن مجید نازل فرمایا، جو ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے اور قیامت تک کے لیے کامل دستور زندگی ہے۔
اس میں بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں سفر، ان کی مردم شماری اور مختلف قبائل کی تفصیلات موجود ہیں۔
موجودہ عبرانی بائبل اور عیسائیوں کے "عہد نامہ قدیم" (Old Testament) میں شامل تورات کے پانچ حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے: torah holy book in urdu
مسلم علماء کا یہ ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اصل تورات کے متن میں انسانی مداخلت اور تبدیلیاں (تحریف) ہوئیں۔ اسی لیے موجودہ تورات میں جہاں بہت سی سچی باتیں ہیں، وہاں کچھ ایسی باتیں بھی شامل ہو چکی ہیں جو اصل وحی کا حصہ نہیں تھیں۔
۲. مسلم علماء کی شروحات اور مطالعہ
لفظ "تورات" عبرانی زبان کے لفظ "Torah" سے نکلا ہے، جس کے معنی "قانون"، "تعلیم" یا "ہدایت" کے ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، تورات وہ مقدس کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی۔ یہودی اور عیسائی روایات میں اسے "عہدِ عتیق" (Old Testament) کا پہلا اور اہم ترین حصہ مانا جاتا ہے۔